حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ میں کہا ہے کہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا گناہ دوسروں کو گناہ سے نہ روکنا ہے، کیونکہ ہم امر بالمعروف ونہی عن المنکر بجانہیں لاتے، نیکی کا حکم نہیں دیتے اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ جیسے چاہے زندگی گزارے ۔ یہ رویہ بدترین عمل ہے ۔
انہوں نے کہا کسی کے بارے میں حسن ظن اچھی چیز ہے لیکن ہمارے سرشت میں حسن ظن نہیں ہے ،غیبت ہمارے معاشرے میں رائج گناہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے ماتحت افرادسے محبت اور شفقت سے پیش آئیں تاکہ اگر کل آپ کو کسی کے ما تحت بننا پڑے تو آپ سے بھی محبت کی جائے ۔کوشش کریں اپنے ماتحت کو عزت کا ساتھ بلائیں ۔
انہوں نے کہا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے 114 مرتبہ اپنے نام کے ساتھ رحمان اور رحیم کا ذکر کیا ہے ۔ان صفات کو دیکھتے ہوئے ہمیں بھی زندگی میں یہ صفات لاگو کرنی چاہیئں۔رئیس الوفاق المدارس نے زوردیا کہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو اور قرآن سے سیکھو کہ زندگی کیسے بسر کرنی ہے۔ قرآن کی تعلیم فصل ربیع کی طرح ہے،جو انسان کی زندگی میں بہارلاتی ہیں ۔لوگوں کے درمیان صلح کراو، یہ عام لوگوں کی نماز اورروزے سے بہتر ہے۔
انہوں نے کہا عقلمند ہے وہ شخص جس کا آج، اس کے گزشتہ کل سے بہتر ہو اور اگر آج کل سے بہتر نہیں ہے تو وہ شخص قابل نفرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کے نزدیک سب سے بدترین چیز ظلم ہے، چاہے ظلم اپنے کسی ماتحت پر ہو یا کسی کے ساتھ یا اپنی ذات پر ۔مولا علی علیہ السلام نے اپنے معصوم بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ظالم چاہے کوئی بھی ہو اس سے نفرت کرو ،جبکہ مظلوم کی حیثیت کو بنا دیکھے ،اس کی مدد کرو۔ مولا امیر المومنینؑ کا فرمان ہے کہ مظلوم کا دن جب آئے گا تو سخت ہوگا، اس دن سے جب سے اس دن سے جس میں ظالم نے ظلم کیا۔









آپ کا تبصرہ